Monday, April 13, 2015

نبیل گبول ایم کیو ایم کے ساتھ کیوں نہ چل سکے!

نبیل گبول ایم کیو ایم میں کیوں نہ چل سکے!
گیارہ مارچ  سے پیش آنے والےحالات و واقعات کے تسلسل کا بغور جائزہ لیں اور باریک بینی کے ساتھ ان کا تجزیہ کریں تو کڑیاں آپس میں خود بخود ملتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن یہ گیارہ مارچ سے کچھ پہلے کی بات ہے جب  جناب الطاف حسین کے آبائی حلقےسے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول کو متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت نے  قومی اسمبلی  سےمستعفی کروا لیا۔  اس استفے کے چند روز بعد ہی کراچی اور ملک بھر کے حق پرست عوام کی امیدوں اور آرزؤں کے مرکز الطاف حسین کی رہائش گاہ المعروف نائن زیرو پر شب کی تاریکی میں رینجرز نے حملہ کیا اور اسکے بعد احتجاج کرنے والے بچوں، خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں پر "شجاعت ودلیری"  کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے گولیاں چلائیں اور ایک نوخیز و ہونہار نوجوان کو چند قدم کے فاصلے سے ہزاروں مرد و خواتین کے سامنے گولی مار کر شہید کردینے کے بعد وہاں سے بزدلی کا بے مثال مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔

نبیل گبول نے جس وقت متحدہ میں شمولیت اختیار کی وہ انکے لئے بہت ہی کڑا وقت تھا۔ ان کی جان پر بنی ہوئی تھی۔ لیاری گینگ وار کے قاتل انکی بو سونگھتے پھر رہے تھے۔ پیپلز پارٹی ان سے قطعی لاتعلق ہوچکی تھی۔ لیاری جو ان کا گھر تھا وہاں کے لوگ انکی شکل دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ الغرض انکے لئے اس بھری دنیا میں کوئی جائے امان نہ بچی تھی۔ ایسے میں انہیں اگر پناہ ملی تو ایم کیوایم میں ہی ملی۔ قائد تحریک نے انہیں نہ صرف پناہ دی بلکہ انہیں وہ عزت بھی دی جوکم ہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے۔ قائد نے انہیں اپنے گھر کی نشست پر ممبرقومی اسمبلی منتخب کروایا اور اس طرح نہ صرف انکی جان بچ سکی بلکہ انہیں اپنے اختتام کو پہنچتے ہوئے سیاسی کیریئر کو بچانے کا موقع بھی مل گیا۔ نبیل گبول نے ایم کیو ایم میں شمولیت کے وقت کہا تھا کہ وہ اپنے اس فریضہ کی ادائیگی کیلئے ایم کیوایم میں شامل ہورہے ہیں تاکہ مظلوموں کی خدمت کرسکیں ۔ انہوں نے  یہ بھی کہا تھا کہ کراچی میں ایم کیوایم کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کی گئیں اور یہ تاثر پیدا کیا کہ یہ مخصوص طبقے کی جماعت ہے جبکہ ایم کیوایم میں تمام قومیتوں کے ہی نہیں بلکہ مذہبی اقلیتوں کے عوام بھی شامل ہیں۔ تاہم استعفے کے  بعدانہوں نے بیان دیا کہ میرا این اے246سے انتخاب لڑنا ایک بڑی غلطی تھی۔  سوال یہ ہے کہ انہیں اس غلطی کا اندازہ دو سال بعد کیوں ہوا اور اسکے بعد بھی وہ خود مستعفی نہیں ہوئے بلکہ ان سےاستعفی لیا گیا۔ نبیل گبول نے یہ بھی کہا کہ رابطہ کمیٹی میں مجھ سے سوتیلے بھائی کا سا سلوک کیا جاتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کو اپنی رعایا سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے تھے جس پر انہیں بار بار اپنا رویہ تبدیل کرنےکیلئے کہا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایم کیو ایم میں مہمان اداکار تھے جس سے ان کی نیت کا اندازہ ہوجانا چاہئے۔
تاہم اعلی ظرفی اوراحسان شناسی جیسےاوصاف قدرت ہر شخص کو ودیعت نہیں کرتی۔ دوسرے یہ حقیقت بھی  کسی سے مخفی نہیں کہ انسان اپنی عادت تو بدل سکتا ہے لیکن فطرت کو بدلنا اسکے لئے ناممکن ہوتا ہے۔ نبیل گبول ایک سردار تھے اور ایم کیو ایم غریب اور متوسط طبقے کے عوام کی نمایئندگی کرنے والی جماعت ہے۔نبیل گبول کیلئے اسکے ساتھ چلنا مشکل ہوگیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کو پورے ملک میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ اسکے عوامی نمایئندے کبھی اپنے ووٹرز  اور حلقے کے عوام سےلاتعلق نہیں ہوتے۔ ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹریا کونسلر سے لیکر ناظم شہر تک کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ ان میں سے  ہر ایک کیلئے دن  اور اوقات مقرر ہیں جن میں اسے اپنے حلقے کے عوام سے ملاقات کرنا اور انکے مسائل و مشکلات کے سلسلےمیں انکی حتی المقدور مدد کرنی ہوتی ہے۔ اس ملاقات کے وران انہیں ہر طرح کے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات انکی کڑوی کسیلی باتیں بھی سننا پڑتی ہیں اور ماتھے پر بل لائے بغیر انہیں مطمئن بھی کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان کے قبائلی  نظام پر مبنی معاشرے میں کوئی عام آدمی کسی سردار، وڈیرے، چوھدری اور جاگیر دار کے آگے بولنے یا سوال کرنے  کی جراءت ہی نہیں کرسکتا،حتی کہ اسکی طرف پیٹھ کرکے کھڑا بھی نہیں ہوسکتا اور نبیل گبول بھی اپنے قبیلے کے سردار ہیں۔ ان میں بھی وہی خو بو ہے جو ایسوں کا خاصہ ہوا کرتی ہے۔ وہ بھی کبھی یہ برداشت نہیں کریں گے کہ ایک عام آدمی انکے آگے کھڑا ہوکر سوال کرے کہ یہ ان کی سرداری کی توہین ہے۔  انکے لئے یہ بات بہت مشکل تھی کہ انہیں عوام کےسامنے جاکر بیٹھنا پڑے اور بعض اوقات انکے تلخ سوالوں کے جواب بھی دینا پڑیں۔
یہی وجہ تھی کہ انہوں نے عوام سے ملنے سے یکسر انکار کردیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ ایک ایم این اے ہیں اور پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح کراچی کے عوا م بھی   انکی رعایا ہیں۔ انہیں بار بار سمجھایا گیا لیکن انکی انا نے یہ گوارہ ہی نہ کیا کہ وہ عام لوگوں کے ساتھ بیٹھیں جن میں اکثریت سفید پوش شرفاء  اور غریب لیکن غیرتمند عوام کی ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ کئی بار تنبیہہ  کرنے اور سمجھانےکے بعدانہیں قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی کرالیا گیا۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہوچکا تھا کہ انکی ان حرکات کے سبب عوام مسلسل پریشانی میں مبتلا ہورہے تھے کیونکہ اسمبلی میں اپنی اس مدت کے دوران وہ اپنے حلقے میں بالکل نہیں گئے۔
 نبیل گبول نے یہ بھانپتے ہوئے کہ اب وہ ایم کیو ایم کے ساتھ نہیں چل سکیں گے اور کسی بھی وقت ان سے استعفی طلب کیا جا سکتا ہے پارٹی کے اندر سازشیں شروع کردیں ۔ انہوں نے رابطہ کمیٹی کے ارکان میں پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کی اور پارٹی میں رہتے ہوئے ایسے کا م کئے جن سے پارٹی کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچ سکتا تھا۔ ایک طرف یہ دوسری طرف وہ اب بہت حد تک ان خطرات سے بھی نکل آئے تھے جن کے باعث وہ ایم کیو ایم میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔عذیر بلوچ کی دبئی میں گرفتاری کے بعد یہ خطرہ بہت حد تک کم ہوچکا تھا۔ استعفے کے بعد انہوں نے خود اس بات کا اقرار کیا کہ  وہ پارٹی  کو وقت نہیں دے سکتے تھے اور یہ کہ وہ ایم کیو ایم کے قابل  ہی نہیں تھے۔ استعفے کے فوری  بعدایم کیو ایم کو صفحہ ہستی سے مٹانےکی خواہش رکھنے والی خفیہ قوتوں نے بھانپ لیا کہ اب وقت ہےکہ ان سے فائدہ اٹھایا جائے اور اس طرح وہ انکے پیرول پر آگئے۔ اب نہ صرف کراچی کے بلکہ پاکستان بھر کے عوام وہ ایم کیو ایم کے حامی ہوں یا مخالف اس بات پر پورا یقین رکھتے ہیں کہ نبیل گبول نے خفیہ طاقتوں کے اشارے پر یہ گندا کھیل کھیلاہے اور بہت بڑی عوامی تایئد یافتہ سیاسی جماعت کو تباہ کرنے کی مذموم  لیکن ناکام کوشش کی ہے۔
اب نبیل گبول انہی طاقتوں کے ایما پر ہر روز کسی نہ کسی ٹی وی چینل پر بیٹھےانکے بتائے ہوئے اسکرپٹ کے مطابق بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے عزیز آباد کے انتخابات کو متنازعہ اور ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو مشتبہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ اگر ہر بیلٹ بکس کے اندر بھی ایک ایک سپاہی کوتعینات کردیا جائے تب بھی ایم کیو ایم کو ہی جیتنا ہےاور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ چند روز کے بعد ہی ضمنی انتخابات کے نتائج کی صورت میں رسوائی اورشرمندگی ان کا انتظار کررہی ہے لیکن شائد ان کی لغت میں شرمندگی کا لفظ ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ قدرت ہر شخص کو اعلی انسانی اوصاف سے متصف نہیں کرتی۔
تاہم کئی ماہ ایم کیو ایم میں رہنے کے بعد وہ اب یہ ضرور جان گئے ہونگےکہ ایم کیو ایم کیا ہے اور انکے کارکنان اور رہنما کیسے لوگ ہیں۔ وہ جان گئے ہونگے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا کی کوئی طاقت انکے مقاصد سے نہیں ہٹا سکتی، کوئی جنرل یا کوئی ایجنسی ان کو انکے قائد سے الگ نہیں کرسکتی اور کتنا بڑا دھچکا انہیں پہنچایا جائے یہ اسے جھیل جانے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسے جھیل جانے کے بعد پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ ابھرتے ہیں۔ البتہ نبیل گبول ہماری سیاسی تاریخ کا ایک استعارہ بن گئے ہیں۔ جب بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ لکھی جائے گی انہیں ایک احسان فراموش، ابن الوقت، کم ظرف اور قدر ناشناس سیاسی شخصیت کے طور پر ہی یاد کیا جائے گا۔